نئی دہلی،4/اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ معاملے کی سماعت کا آج 36 واں دن تھا جس کے دوران رام للا کے وکیل سی ایس ویدیاناتھن نے جمعتہ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون کے سیاحوں کی رپورٹ پر اعتراض کرنے کے جواب میں کہا کہ سیاحوں کی رپورٹس کو یہ کہہ کر مسترد کردینا کہ وہ سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں غلط ہے،حالانکہ اسی طرح بہت سی مذہبی کتابیں بھی سنی سنائی باتوں کا مجموعہ ہیں۔ ویدیاناتھن کی اس دلیل پر دھون سخت برہم ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ہندو مذہب کی کسی بھی مذہبی کتاب کے ایک لفظ پر بھی اعتراض نہیں کیا ہے مگر آج سیاحوں کی رپورٹ کا مسلمانوں کی مذہبی کتابوں سے موازنہ کرنا بدقسمتی کی بات ہے۔ ڈاکٹر دھون نے کہا کہ انہوں نے سیاحوں کی رپورٹ اور آزاد گواہوں کے بیانات میں تضاد کی روشنی میں اپنا اعتراض کیا تھا اورکہاتھاکہ سیاحوں نے خود یہ دیکھا نہیں تھا کہ رام کا جنم کہاں ہوا تھا بلکہ انہوں نے ہندو عبادت گذاروں کے بیانات کی روشنی میں یہ کہا تھاکہ ایودھیا میں رام کا جنم ہوا تھا اور بابری مسجد کے اندر رام کے جنم استھان کا ان کا عقیدہ تھا۔ گزشتہ 36 دونوں سے اس اہم معاملہ کی سماعت کررہی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس بوبڑے جسٹس چندر چوڑ،جسٹس بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر کو آج سینئر ایڈوکیٹ ودیاناتھن نے بتایا کہ مسلم فریق نے محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر اعتراض کیا ہے لیکن انہیں یہ پتہ ہونا چاہئے کہ کھدائی کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ مسجد کی تعمیرپہلے سے موجودہ عمارت کو منہدم کرکے اس پر بنائی گئی تھی اور مسلم فریق کا یہ دعویٰ کہ مسجد کی تعمیر کھلی جگہ پر کی گئی تھی غیر حقیقی ہے۔ ایڈوکیٹ ودیا ناتھن نے کھدائی کے بعد نکلے ستونوں پر بحث کی جس پر جسٹس بوبڑے نے ان سے پوچھا کہ یہ کیسے پتہ چلے گا یہ ستون کس زمانے کے ہیں جس پر ڈاکٹر دھون نے کہا کہ اس تعلق سے محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ بھی خاموش ہے۔ ودیاناتھن نے مزید کہا کہ اس پر تمام لوگوں کا یقین ہے کہ ایودھیا میں رام کا جنم ہوا تھا اور اس علاقے کو رام کوٹ کہا جاتا تھا لہٰذا یہ کہنا کہ متنازعہ مقام پر بدھشٹ مندر ہوسکتا ہے خیالی معلوم ہوتا ہے۔ اسی درمیان ڈاکٹردھون نے الہ آباد ہائی کور ٹ کا فیصلہ پڑھ کر عدالت کو یہ بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے اپنی رپورٹ میں یہ کہیں بھی نہیں کہا ہے کہ کسی عمارت کو منہدم کرکے دوسری عمارت کی تعمیر کی گئی تھی لہٰذا فریق مخالف کا یہ دعویٰ کہ مندر کو مہندم کرکے بابر نے مسجد کی تعمیر کی تھی اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ رام للا کی قانونی حیثیت، محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ اور دیگر موضوعات پر بحث کرنے کے بعدانہوں نے نرموہی اکھاڑہ کے دعویٰ پر بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں انہیں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے اور الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں غلطی سے ایک تہائی حصہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 1855 میں نرموہی اکھاڑہ نے باہری صحن میں رام چبوترا بتایا تھا اور تب سے وہ انتظامی امور کی دعوے داری پیش کررہے ہیں۔